کیا فقہ اسلامی کے تمام ادوار میں اجتہاد موجود تھا؟ Kia Fiqah Islami k tmam Adwaar me Ijtihaad maojood tha?

 
   


By Dr. Atiqurrahman graduated from KSA ( Taken from his lectures)

نوٹ :- ان ادوار میں جو جو معلومات دی گئی ہیں وہ صحیح ہیں ، اور اس موضوع پر جو کچھ بھی لکھا جا رہا ہے وہ ایک عام آدمی اور دین کے طالب علم کے لیے صحیح معلومات درج کرنا ہیں، اس سے کسی خاص مسلک اور اس کی  فقہ خلاف موضوع نہیں ہے ، پڑھیے اور اسے سمجھیے یہ مقصد ہے ۔ نوجوان طبقے کو ان جیسے موضوعات پر لکھنے یا معلومات حاصل کرنے کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے ، اس لیے لکھ دیا۔
اللہ پاک سے دعا ہے جو کچھ لکھا گیا ،  اس پر میرے استاد محترم فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عتیق الرحمن حفظہ اللہ -مدرس جامعہ سلفیہ فیصل آباد- کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے،  اور اس بلاگ میں طبع کرنے والے کو اجر عظیم سے نوازے،  اگر اس میں کوئی غلطی ہوئی ہو تو میری طرف سے ہے  اس کی تصحیح کر کے مجھے کومنٹ میں اس کی  اصلاح کرنے کی توجہ دلائیں ۔ جزاکم اللہ خیراً ۔ 

کیا فقہ اسلامی کے تمام ادوار میں اجتہاد موجود تھا؟

فقہ اسلامی کا پہلا دور
آغاز نبوت سے 11 ہجری تک

جی ہاں ، اس دور میں اجتہاد موجود تھا ،  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم بہت سارے مسائل میں اجتہاد کیا کرتے تھے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں ہوتے تھے ۔ جس طرح غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشاورت ہوئی کہ انہیں قتل کیا جائے یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے؟ دونوں طرح کے مشوروں کو سامنے رکھتے ہوئے فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا ، بعد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ کی گئی کہ ایسا کرنا درست نہیں ۔۔۔۔ لیکن ساتھ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی کہہ دیا کہ اب جو آپ نے کر لیا ہے ، اب وہ درست ہے ۔ 
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اجتہاد کیا کرتے تھے ۔

دوسرا دور ، دورِ صحابہ کرام رضہ اللہ تعالیٰ عنہم 

(40 Hijri - 11 Hijri)
 

اس دور میں شریعتِ اسلامیہ کے اصل مآخذ قرآن اور حدیث تھے ، اور اجماع بھی موجود تھا ، جس کی مثالیں مندرجہ ذیل میں پیش کی جارہی ہیں۔

1/ جیسا کہ نماز تراویح کا باجماعت کا اہتمام ۔

2/ قرآن کریم کی باقائدہ سے تدوین کا کام ۔

3/ منکرین زکات کے خلاف جہاد کرنا ۔

4/ مرتدین کے خلاف جہاد ، اور یہ سارے مسائل اجتہادی تھے جن پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اتفاق کیا۔

تیسرا دور ، دورِ تابعین رحمہم اللّٰہ 

(41 ھ - 100 ھ)


اس دور میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مختلف علاقوں کی طرف چلے گئے اور لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنے ، کثرت سے احادیث بیان ہوئیں اور سنی گئیں ، اسی طرح انہیں احادیث سے مسائل کا استنباط بھی کیا گیا ، اس دور میں دو مدرسے معرض وجود میں آئے ۔

1/ مکہ اور مدینہ میں ؛ مدرسہ اہل الحدیث ۔ #مدینہ میں : اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ۔

#مکہ میں : حضرت عبد اللہ بن عباس اور ان جیسے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  ۔ ان علاقوں میں احادیث کی طرف توجہ زیادہ دی جاتی، جبکہ قیاس اور رائے کی طرف توجہ بہت کم تھی ۔

2/ مدرسہ اہل الرائے ، جو کہ عراق اور بصرہ وغیرہ میں ۔

کوفہ وغیرہ میں: حضرت عبد اللہ بن مسعود ، حضرت علی ، اور حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہم  اور ان کے شاگر حضرات رحمہم اللہ یہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بنیادی فقہاء میں شمار ہوتے ہیں ۔ 

ان علاقوں میں رائے اور قیاس کا استعمال زیادہ تھا ، مگر اس دور میں فقہ مدون نہیں کی گئی۔

  

چوتھا دور ، دورِ آئمہ و محدثین کرام رحمہم اللہ

(101 Hijri - 350 Hijri)


یہ دور حدیث و فقہ کا سنہری دور کہلاتا ہے۔ اس دور میں آئمہ اور محدثین کا ظہور ہوا ، حدیث و فقہ کی تدوین بھی ہوئی۔

اس دور سے چار مذاہب کے پھیلنے کا آغاز ہوا ۔ 

اس دور میں حنفی مذھب زیادہ پھیلا ، کیونکہ عباسی خلفاء علماء کرام سے رابطہ رکھتے تھے ، اسی دوران انہوں نے قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ جو کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ شاگرد تھے،کو چیف جسٹس مقرر کیا ، انہوں نے حنفی علماء کو جہاں چاہا قاضی متعین کیا ۔

اس دور میں حدیث کی کتابوں میں سب سے پہلے مؤطا امام مالک مدون ہوئی ؛ جس میں احادیث ، اقوال صحابہ رضی اللہ عنہم اور علماء کی آراء کو نقل کیا گیا ہے۔

اس کے بعد مسند احمد بن حنبل کی تدوین ہوئی،  اسی طرح حدیث کی دوسری کتب : صحیح البخاری ، صحیح مسلم ، سنن ابی داؤد ، سنن ترمذی ، سنن نسائی ، ابن ماجہ اور دیگر کتب کی تدوین ہوئی ۔

Comments