کیا فقہ اسلامی کے تمام ادوار میں اجتہاد موجود تھا؟ Kia Fiqah Islami k tmam Adwaar me Ijtihaad maojood tha?
دوسرا دور ، دورِ صحابہ کرام رضہ اللہ تعالیٰ عنہم
(40 Hijri - 11 Hijri)
اس دور میں شریعتِ اسلامیہ کے اصل مآخذ قرآن اور حدیث تھے ، اور اجماع بھی موجود تھا ، جس کی مثالیں مندرجہ ذیل میں پیش کی جارہی ہیں۔
1/ جیسا کہ نماز تراویح کا باجماعت کا اہتمام ۔
2/ قرآن کریم کی باقائدہ سے تدوین کا کام ۔
3/ منکرین زکات کے خلاف جہاد کرنا ۔
4/ مرتدین کے خلاف جہاد ، اور یہ سارے مسائل اجتہادی تھے جن پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اتفاق کیا۔
تیسرا دور ، دورِ تابعین رحمہم اللّٰہ
اس دور میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مختلف علاقوں کی طرف چلے گئے اور لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنے ، کثرت سے احادیث بیان ہوئیں اور سنی گئیں ، اسی طرح انہیں احادیث سے مسائل کا استنباط بھی کیا گیا ، اس دور میں دو مدرسے معرض وجود میں آئے ۔
1/ مکہ اور مدینہ میں ؛ مدرسہ اہل الحدیث ۔ #مدینہ میں : اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ۔
#مکہ میں : حضرت عبد اللہ بن عباس اور ان جیسے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ۔ ان علاقوں میں احادیث کی طرف توجہ زیادہ دی جاتی، جبکہ قیاس اور رائے کی طرف توجہ بہت کم تھی ۔
2/ مدرسہ اہل الرائے ، جو کہ عراق اور بصرہ وغیرہ میں ۔
کوفہ وغیرہ میں: حضرت عبد اللہ بن مسعود ، حضرت علی ، اور حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہم اور ان کے شاگر حضرات رحمہم اللہ یہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بنیادی فقہاء میں شمار ہوتے ہیں ۔
ان علاقوں میں رائے اور قیاس کا استعمال زیادہ تھا ، مگر اس دور میں فقہ مدون نہیں کی گئی۔
چوتھا دور ، دورِ آئمہ و محدثین کرام رحمہم اللہ
(101 Hijri - 350 Hijri)
یہ دور حدیث و فقہ کا سنہری دور کہلاتا ہے۔ اس دور میں آئمہ اور محدثین کا ظہور ہوا ، حدیث و فقہ کی تدوین بھی ہوئی۔
اس دور سے چار مذاہب کے پھیلنے کا آغاز ہوا ۔
اس دور میں حنفی مذھب زیادہ پھیلا ، کیونکہ عباسی خلفاء علماء کرام سے رابطہ رکھتے تھے ، اسی دوران انہوں نے قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ جو کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ شاگرد تھے،کو چیف جسٹس مقرر کیا ، انہوں نے حنفی علماء کو جہاں چاہا قاضی متعین کیا ۔
اس دور میں حدیث کی کتابوں میں سب سے پہلے مؤطا امام مالک مدون ہوئی ؛ جس میں احادیث ، اقوال صحابہ رضی اللہ عنہم اور علماء کی آراء کو نقل کیا گیا ہے۔
اس کے بعد مسند احمد بن حنبل کی تدوین ہوئی، اسی طرح حدیث کی دوسری کتب : صحیح البخاری ، صحیح مسلم ، سنن ابی داؤد ، سنن ترمذی ، سنن نسائی ، ابن ماجہ اور دیگر کتب کی تدوین ہوئی ۔


Comments
Post a Comment