فقہ کسے کہتے ہیں؟ \ فقہ کی لغوی اور اصطلاحی تعریف کیا ہے؟
یہ فَقُهَ سے ماخوذ ہے ، اس کا مطلب ہے کسی چیز کو جاننا ، سمجھنا
اصل میں فقہ دِقَّةُ الْفَهْمِ کو کہا جاتا ہے ، یعنی بات کرنے والے کے مقصد کو باریکی اور گہرائی سے سمجھنا ۔
جس طرح حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم نے ان سے کہا کہ : قَالُوا۟ یَـٰشُعَیۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِیرࣰا مِّمَّا تَقُولُ
[سُورَةُ هُودٍ: ٩١]
اے شعیب ہم تمہاری اکثر باتوں کو گہرائی سے سمجھ نہیں سکتے ۔
جبکہ وہ انہی۔ کی زُبان میں بات کرتے تھے ، اس کے باوجود ان کی قوم نے یہی کہا کہ ہمیں سمجھ نہیں آتی ، یعنی تمہاری باتوں کی تہہ اور گہرائی تک نہیں پہنچ سکتے ۔
اصطلاحی تعریف:-
الْعِلْمُ بِالْأَحْكامِ الشَّرِيْعَةِ الْعَمَلِيَّةِ الْمُكْتَسَبَةِ مِنْ أَدِلَّتِها التَّفْصِيْلِيَةِ
مذکورہ بالا تعریف کا مندرجہ مطلب اچھے طریقے سمجھا جا سکتا ہے۔
عاقل ، بالغ شخص دنیا میں رہتے ہوئے جو بھی کام سر انجام دیتا ہے ، اس کے کام کا شریعت میں کیا حکم ہے ، اس حکم کو پہچاننا علم فقہ کہلاتا ہے۔
مثلا : انسان عقد ، بیع ، نکاح کرتا ہے ، نماز ، روزہ ، حج ، زکات ادا کرتا ہے یا دیگر امور سر انجام دیتا ہے، ان سب کا شریعت کیا حکم دیتی ہے ؟ جائز ہے یا ناجائز ہے، حلال ہے یا حرام ہے ، انہیں کا حکم معلوم کرنا ۔


Comments
Post a Comment