خُلَع لے کر واپس شوہر سے نکاح کس طرح کیا جائے گا ؟



 
الحمد للہ وحدہ و الصلوت و السلام علی رسول اللہ
أما بعد
اگر تو خاوند نے اس كے ساتھ خلع كيا ہے، وہ اس طرح كہ ان دونوں كے مابين نكاح فسخ ہو گيا اور صرف معاوضہ يعنى مہر كى ادائيگى كرنا باقى  ہے، تو اس صورت ميں اسے كوئى اختيار باقى نہيں، چاہے اس نے ابھى تك اپنا مہر واپس نہيں ليا

ليكن اگر وہ دونوں نكاح فسخ كيے بغير متفق ہوئے ہيں كہ جب وہ مہر واپس كر دے گى تو نكاح فَسَخ كر ديا جائيگا وگرنا اس سے فسخ واقع نہيں ہوا، بلكہ اس ميں اس نے نكاح فسخ كرنے كا وعدہ ہى كيا ہے، اگر اس نے نكاح فسخ نہيں كيا تو اپنى نيت سے اور جو كام ابھى كيا ہى نہيں اس سے رجوع كرنے كا حق حاصل ہے
اگرچہ وہ كہہ چكا ہے كہ اگر تم مجھے ميرا مہر واپس كر ديتى ہو تو ميں تم سے خلع كرتا ہوں يا نكاح فسخ كر ديتا ہوں تو حنابلہ كا مذہب يہ ہے كہ اس كو رجوع كا حق حاصل نہيں؟ 
اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كے ہاں يہ ہے كہ : اگر اس نے ابھى عِوَض نہيں ليا تو 
اسے رجوع كا حق حاصل ہے
شيخ عبد الرحمن السعدى كا فتوى
ليكن احتياط اسى ميں ہے كہ اگرچہ اس آخرى صورت ميں عادت بن چكى ہے اور وہ دونوں اتفاق كرنا چاہتے ہيں تو تجديد نكاح كر ليں تاكہ اختلاف سے نكلا جا سكے۔

Comments