اگر کوئی اپنی زندگی میں اپنی اولاد کو اپنی جائیداد تقسیم کردے اس کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ #وراثت کہلائے گی ؟
الحمد للہ وحدہ والصلات و السلام علی خاتم النبیین
وراثت اپنی زندگی میں تقسیم نہیں ہوتی ، مرنے کے بعد وراثت تقسیم کی جاتی ہے ، زندگی میں اگر اپنی جائیداد تقسیم کرنی ہے تو اسے ھبہ، گفٹ ، تحفہ کہاجائے گا وراثت نہیں ، وراثت میں بیٹوں کو ڈبل اور بیٹیوں کو سنگل تقسیم کی جاتی ہے جبکہ گفٹ میں لڑکوں اور لڑکیوں کو برابر برابر تقسیم ہوگی ۔
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما یہ دونوں صحابی ہیں نعمان رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں اپنے بیٹے نعمان رضی اللہ عنہ کو ایک باغ گفٹ کرنا چاہتا ہوں ، اس پر ان کی بیوی نے کہا کہ اگر اس بات پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دے دیں تو میں راضی ہوں ۔
- وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے اور کہا کہ میں اپنے بیٹے کو ایک باغ تحفہ دینا چاہتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ اس کا کوئی اور بھائی بھی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں تو آپ نے فرمایا کہ میں ظلم پر کیسے گواہی دے دوں ، ساری اولاد کو برابر برابر چیزیں دو نہیں تو کسی کو مت دو۔ (خلاصہء حدیث)
.png)


Comments
Post a Comment