اَصحابِ اُخْدُود كي کہانی قصہ As'habe Ukhdood ka Qissa kahani - A baby talk when he was suckling#
وَٱلسَّمَاۤءِ ذَاتِ ٱلۡبُرُوجِ (١) وَٱلۡیَوۡمِ ٱلۡمَوۡعُودِ (٢) وَشَاهِدࣲ وَمَشۡهُودࣲ (٣) قُتِلَ أَصۡحَـٰبُ ٱلۡأُخۡدُودِ (٤) ٱلنَّارِ ذَاتِ ٱلۡوَقُودِ (٥) إِذۡ هُمۡ عَلَیۡهَا قُعُودࣱ (٦) وَهُمۡ عَلَىٰ مَا یَفۡعَلُونَ بِٱلۡمُؤۡمِنِینَ شُهُودࣱ (٧) وَمَا نَقَمُوا۟ مِنۡهُمۡ إِلَّاۤ أَن یُؤۡمِنُوا۟ بِٱللَّهِ ٱلۡعَزِیزِ ٱلۡحَمِیدِ (٨)
[سُورَةُ البُرُوجِ: ١-٨]
برجوں والے آسمان کی قسم!حاضر ہونے والے اور حاضر کئے گئے کی قسم!(کہ) خندقوں والے ہلاک کیے گئے.وه ایک آگ تھی ایندھن والی.جب کہ وه لوگ اس کے آس پاس بیٹھے تھے.اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کو اپنے سامنے دیکھ رہے تھے.یہ لوگ ان مسلمانوں (کے کسی اور گناه کا) بدلہ نہیں لے رہے تھے، سوائے اس کے کہ وه اللہ غالب ﻻئق حمد کی ذات پر ایمان ﻻئے تھے.
پیارے بچو کیا آپ کو معلوم ہے کہ
پہلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس کا
ایک جادو گر تھا
جادوگر بوڑھا ہو گیا تھا اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھے ایک ذھین لڑکا دو جسے میں جادو کا علم سکھادوں ۔
بادشاہ نے ایک سمجھدار لڑکا تلاش کر کے اسے سونپ دیا ۔
لڑکا جب جادوگر کے پاس جانے کے لیے گھر سے نکلتا تو راستے میں ایک راہب رہتا تھا اور وہ اس کے پاس بڑھتا اس کی باتیں سنتا اس کی باتیں اسے پسند آتیں اور وہ آتے جاتے اس کے پاس ہوتا ہوا جاتا
اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا ، جادو گر کی نسبت لڑکا راہب کی باتیں پسند کرتا ۔
ایک مرتبہ یہ لڑکا جا رہا تھا راستے میں بہت بڑے سانپ یا شیر نے لوگوں کا راستہ روکا ہوا تھا ، اس لڑکے نے سوچا کہ آج میں دیکھتا ہوں کہ راہب کی باتیں سچی ہیں یا جادوگر کی، اس نے پتھر اٹھایا اور کہا: "اے اللہ اگر تیرے نزدیک راہب کا معاملہ جادوگر کے معاملے سے بہتر اور پسندیدہ ہے تو اس جانور کو مار دے
یہ کہہ کر اس نے پتھر مارا اور وہ جانور مر گیا ، لڑکے نے جا کر راہب کو یہ واقعہ بتا دیا ، راہب نے کہا کہ بیٹا اب تم فضل و کمال کو پہنچ گئے ہو اور اب تمہاری آزمائش شروع ہو نے والی ہے ۔
مگر اس آزمائش کے وقت میں میرے بارے کسی کو نا بتانا ۔
اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان ہونے کی وجہ سے مادر زاد اندھے ، ابرص ، اور دیگر بیماریوں کا علاج ایمان باللہ کی شرط پہ کرتا تھا ، یہ لڑکا اللہ سے دعا کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا سے شفا عطا فرما دیتا ۔
اسی طرح اس نے
بادشاہ کے ایک مصاحب کا اسی شرط پر علاج کیا جس سے وہ شفا یاب بھی ہوا۔
جب یہ خبر بادشاہ کے پاس پہچی کہ یہ لڑکا ایمان باللہ پر لوگوں کو اللہ سے دعا کرکے لوگوں شفا یاب کراتا ہے تو بہت پریشان ہوا ، اور انس نے کچھ اہل ایمان کو قتل کروا دیا ، اور اس لڑکے کو اپنے آدمیوں کو اسے قتل کرانے کے لیے بھیجا اور کہا کہ اسے پہاڑ پر لے جاکر اوپر سے دھکا دے دینا یہ مر جائے گا ، اس لڑکے نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور پہاڑ میں لرزش پیدا ہوئی جس سے باقی کے سارے لوگ مر گئے اور اللہ نے اسے بچا لیا ۔
بادشاہ نے اسے دوسرے آدمیوں کے سپرد کر کے کہا کشتی میں بٹھا کر سمندر کے بیچ میں لے جاکر اسے پھیک دو ، وہاں بھی اس کی دعا سے کشتی الٹ گئی جس سے وہ سب غرق ہو گئے اور لڑکا بچ گیا۔
لڑکے نے بادشاہ سے کہا کہ اگر تو نے مجھے مارنا ہے تو لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کر اور کہہ "اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے" پھر تیر چلا ، بادشاہ نے ایسا ہی کیا جس لڑکا شہید ہوگیا مگر وہاں پر موجود سارے پکار اٹھے کہ "ہم بھی اس لڑکے کے رب پر ایمان لے آئے ۔
بادشاہ اور زیادہ تپ گیا اور پریشان ہوا ۔ چناچہ اس نے خندقیں کھدوائی اور اس میں آگ جلوائی اور حکم دیا کہ جو ایمان سے نہ پھرے اسے آگ میں
اسی طرح ایمان والے آتے رہے اور آگ کے حوالے ہوتے رہے حتی کہ ایک عورت آئی اور وہ ذرا ٹھٹھکی تو دودھ پیتا بچہ بول پڑا : - "امی جان صبر کر تو حق پر ہے
😯😭😭😭
یہ قصہ حضرت امام مسلم رحمہ اللہ نے صحیح مسلم میں نقل کیا ہے ۔


Comments
Post a Comment